LIVE
Loading Breaking News...

سابق بینکرز کی شرح سود کیس میں سزائیں ختم، عدالتِ اپیل کا فیصلہ

News Image
لندن کی عدالتِ اپیل نے شرح سود میں مبینہ ہیرا پھیری کے الزام میں سزا پانے والے پانچ سابق بینکرز کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کو مالیاتی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی عدالتِ اپیل نے ایک اہم فیصلے میں ان پانچ سابق بینکرز کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں جنہیں ماضی میں بین بینکرز کے درمیان استعمال ہونے والی شرح سود میں ہیرا پھیری کرنے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ یہ مقدمات دنیا بھر کے بینکنگ سیکٹر میں ہونے والی تحقیقات کا ایک اہم حصہ تھے۔ عدالت کی جانب سے جن افراد کی سزائیں کالعدم قرار دی گئی ہیں ان میں جے مرچنٹ، جوناتھن میتھیو، فلپ موریوسیف، الیکس پبون اور کولن برمنگھم شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو نچلی عدالتوں کی جانب سے مختلف الزامات کے تحت قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں جنہیں اب اپیل کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتِ اپیل کا یہ فیصلہ ان استدلالات کی بنیاد پر آیا ہے جن میں پراسیکیوشن کے طریقہ کار اور سابقہ فیصلوں میں قانونی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس فیصلے سے ان سابق بینکرز کو بڑی قانونی راحت ملی ہے جو طویل عرصے سے اپنی بے گناہی کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس نوعیت کے مقدمات بینکاری کی تاریخ میں انتہائی پیچیدہ سمجھے جاتے ہیں جن میں عالمی مالیاتی منڈیوں کے ضوابط اور طریقوں پر گہری بحث کی جاتی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد مالیاتی اداروں اور قانونی حلقوں میں اس کے اثرات پر چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید قانونی اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔