World
فلسطینی مسئلہ اور امن کونسل کا مستقبل - تفصیلی تجزیہ
فلسطینی مسئلے کو اقوام متحدہ کے فریم ورک میں واپس لانے اور بین الاقوامی قانون کے تحت حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ امن کونسل ایک ناکام ادارہ بن چکی ہے جسے اب بند کر دینا چاہیے۔
فلسطینی مسئلے کے دیرینہ حل کے لیے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر مباحث شروع ہو چکے ہیں اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اس اہم مسئلے کو روایتی اور ناکام فورمز سے ہٹا کر دوبارہ اقوام متحدہ کے اصل فریم ورک کے سپرد کیا جائے۔ سفارتی حلقوں میں یہ آواز شدت کے ساتھ اٹھائی جا رہی ہے کہ موجودہ امن کونسل اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اسے مزید چلانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک فلسطینی تنازع کو بین الاقوامی قانون کی مضبوط بنیادوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ امن کونسل کو ایک غیر مؤثر ادارہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا جا رہا ہے کہ اس نام نہاد ڈھانچے کو ترک کر کے تمام فریقین کو عالمی قوانین کی پاسداری کی طرف لوٹنا چاہئے۔
اقوام متحدہ کا فریم ورک ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی قوانین کے تحت تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں امن کے نام پر بنائے جانے والے متعدد ادارے زمینی حقائق کا احاطہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ناکام تجربات کو ختم کر کے عالمی برادری کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہئے۔
مستقبل کی حکمت عملی کے تحت یہ ضروری ہے کہ فلسطینی مسئلے کو انصاف اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دیکھا جائے۔ جب تک اس مسئلے کو اس کے اصل قانونی اور سیاسی پس منظر میں حل نہیں کیا جاتا، مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ناممکن رہے گا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو فعال کرے تاکہ ایک منصفانہ اور دائمی امن معاہدہ ممکن ہو سکے۔