World
ٹرمپ روس میں لیب ورکر کی موت پر پوتن سے بات کریں گے
روس میں لیب ورکر کی پراسرار ہلاکت کے بعد نیومونک طاعون کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر شفافیت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر روسی صدر سے براہ راست بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے رابطہ کریں گے تاکہ روس میں ایک لیب ورکر کی پراسرار موت کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ موت کی وجہ خطرناک نیومونک طاعون ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر روس سے اس معاملے میں مزید شفافیت برتنے اور حقائق کو دنیا کے سامنے لانے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بائیو سیفٹی اور لیبارٹریز کے حفاظتی اقدامات پر پہلے ہی عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیب ورکر کی اچانک ہلاکت کے بعد طبی ماہرین اور عالمی اداروں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر اس بیماری کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ ایک بڑی آفت کا روپ دھار سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ روسی حکام اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس سے افواہوں اور خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متوقع اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بات چیت سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات پر اثر پڑے گا بلکہ اس سے عالمی سطح پر صحت کے امور اور بائیو سیکیورٹی کے معاہدوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ اور روس کے درمیان اس حساس معاملے پر بات چیت سے یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ ماسکو اس تحقیقات میں عالمی برداری کے ساتھ کتنا تعاون کرنے کو تیار ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی اداروں نے بھی اس واقعے پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ لیبارٹری کے ریکارڈز اور متاثرہ ورکر کی میڈیکل ہسٹری کو فوری طور پر آزاد طبی ماہرین کے حوالے کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہے گی اور اس کے نتائج پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوں گی۔