World
دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد کے شکار افراد کو تعاون کی ضرورت
نیشنل رورل کرائم نیٹ ورک کے مطابق دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد اور زیادتی کے واقعات اکثر چھپے رہتے ہیں۔ متاثرہ افراد کو امدادی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں شدید نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عالمی سطح پر دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں گھریلو تشدد اور استحصال کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ نیشنل رورل کرائم نیٹ ورک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس اور بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد اور زیادتی کی حقیقی تصویر اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتی ہے اور اس کے شواہد یا متاثرین کی آواز آسانی سے متعلقہ اداروں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس سنگین مسئلے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دیہی اور پسماندہ خطوں میں رہنے والے افراد کو مدد یا تحفظ حاصل کرنے کے لیے کئی طرح کی پیچیدہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متاثرین اکثر تنہائی کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ کم اور فاصلے زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے قریبی رشتے داروں، پڑوسیوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک بروقت رسائی ممکن نہیں ہو पाती۔ بعض اوقات متاثرہ افراد کو اس قدر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ انہیں زبردستی گھر کے کاموں یا دیگر جبری مشقت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ کس طرح گھریلو تشدد کے دوران انہیں شدید اذیت دی گئی اور مدد کی تمام راہیں مسدود کر دی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں فلاحی اداروں اور پولیس کا رسوخ کمزور ہوتا ہے، جس سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مظلوم افراد خاموشی برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے اب سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ دیہی علاقوں کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز، موبائل سپورٹ یونٹس اور آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ دیہی پس منظر میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے قانون سازی کو مزید سخت کریں اور متاثرین کی بحالی کے لیے خصوصی مراکز قائم کریں۔ صرف اس طرح سے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے والے بے بس افراد کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے اور معاشرے سے اس ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔