LIVE
Loading Breaking News...

کارنیل یونیورسٹی جنسی الزامات اور رضامندی کے قوانین میں خامیاں

News Image
برطانوی نشریاتی ادارے نے امریکی ریاستوں کے جنسی حملوں سے متعلق قوانین اور ان میں موجود خغیوں پر ماہرین سے بات چیت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین میں تبدیلی سے مبینہ متاثرین کو انصاف دلانے میں مدد ملے گی۔
امریکی ریاست میں کارنیل یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے جنسی استحصال کے سنگین الزامات نے ایک بار پھر قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس واقعے کے بعد ماہرین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ قوانین میں کس طرح کے سقم پائے جاتے ہیں جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے اس سلسلے میں متعدد قانونی ماہرین سے گفتگو کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ امریکی ریاستوں میں جنسی حملوں سے متعلق قوانین میں کن اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نشے کی حالت اور رضامندی کے تصور کے درمیان کا باریک فرق اکثر ملزمان کو قانونی چھٹی دلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ قوانین کی ساخت ایسی ہے کہ جب کوئی فرد نشے کی حالت میں ہوتا ہے تو رضامندی کے معاملے کو ثابت کرنا استغاثہ کے لیے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے اس حالیہ واقعے نے معاشرے میں ایک مباحثہ چھیڑ دیا ہے کہ آیا جامعات اور عدالتی نظام میں نوجوانوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین ناکافی ہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر ان قوانین میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو مبینہ متاثرین کے لیے انصاف کا حصول ناممکن ہوتا رہے گا۔ اس بحث کا مقصد نہ صرف متاثرہ افراد کی آواز کو بلند کرنا ہے بلکہ قانون ساز اداروں پر دباؤ ڈالنا بھی ہے تاکہ وہ ایسے واضح اور دوٹوک ضوابط وضع کریں جن میں ابہام کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کی تنظیمیں بھی اس معاملے پر سراپا احتجاج ہیں اور وہ شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس پورے تنازع نے ایک بار پھر اس عالمی مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء بالخصوص طالبات کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قوانین کو زیادہ سخت اور متاثرین کے موافق بنانے کی ضرورت ہے۔