World
یوکرین پر روس کے حملے، زیلنسکی کا مذمتی بیان اور امدادی کارروائیاں
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے حالیہ بڑے پیمانے پر کیے جانے والے فضائی اور زمینی حملوں کی شدید مذمت کی ہے جن کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پریلوکی میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں کیے جانے والے بڑے پیمانے اور شدید حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک بیس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں ان کارروائیوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی بھرپور حمایت جاری رکھے۔
حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ پریس رپورٹس اور مقامی حکام کے مطابق، پریلوکی کے علاقے میں روسی حملے کے نتیجے میں ایک کثیر المنزلہ اپارٹمنٹ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد سے ریسکیو اہلکار اور فائر فائٹرز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے اور وہ ملبے تلے پھنسے یا لاپتہ ہونے والے رہائشیوں کی تلاش کے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرد موسم اور خراب حالات کے باوجود امدادی ٹیمیں انتہائی محنت سے کام کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ زندہ بچ جانے والے شخص کو نکالا جا سکے یا کم از کم متاثرہ خاندانوں کو تسلی دی جا سکے۔ اس المناک صورتحال نے ایک بار پھر جنگ سے متاثرہ عام شہریوں کی مشکلات کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہے۔