World
امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ اور عبدالسیّد کی مہم
عبدالسیّد کی سخت گیر انتخابی مہم نے امریکہ میں سیاسی جماعتوں، میڈیا کے کردار اور اسرائیل سے متعلق پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی سیاسی منظر نامے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کی صنعت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
عبدالسیّد کی سخت گیر اور اصول پرست انتخابی مہم نے امریکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئے مباحثے کو جنم دیا ہے۔ اس مہم نے نہ صرف ایک بڑی سیاسی جماعت کے اندر موجود تضادات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ امریکی میڈیا کے اس کردار کو بھی آشکار کیا ہے جو بین الاقوامی تعلقات اور خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے پالیسیوں کی تشکیل میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کس طرح مختلف لابیوں اور اثر و رسوخ کے حامل گروہوں کا ملکی سیاست پر اثر رہتا ہے۔ عبدالسیّد کی حالیہ پیش رفت نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ آیا امریکی سیاست دان آزادانہ طور پر خارجہ پالیسی کے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، بالخصوص جب بات اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے متعلق امور کی ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کے نیٹ ورک کا حصہ یا اس سے متاثر نظر آتا ہے۔ جب بھی کوئی امیدوار روایتی بیانیے سے ہٹ کر بات کرتا ہے، تو اسے میڈیا اور سیاسی دونوں محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عبدالسیّد کی مہم نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ نچلی سطح پر تبدیلیاں لانے کی کوششیں کتنی مشکل ہو سکتی ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ میں داخلی سیاست اور خارجی مفادات کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس قسم کی مہمات روایتی سیاسی ڈھانچے پر کتنا اثر ڈالتی ہیں اور کیا اس سے امریکی عوام کی سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔