World
کیمسٹری کا نوبل انعام 2024: ہنری کیگن اور کینسو سوائی فاتح قرار
سائنسدانوں کو غیر متوازن سالمات کے طویل عرصے سے چلے آ رہے پراسرار مسئلے کو حل کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ان کی اس اہم تحقیق سے ادویات کی تیاری کے عمل میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔
سائنسی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز یعنی نوبل انعام برائے کیمسٹری کا اعلان کر دیا گیا ہے، جہاں اس سال یہ مایہ ناز اعزاز سائنسدانوں ہنری کیگن اور کینسو سوائی کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ دونوں سائنسدانوں کو یہ کامیابی غیر متوازن سالمات یا اسئیمیٹرک مالیکیولز کے اسرار کو حل کرنے پر ملی ہے، جس نے دواسازی کی صنعت بالخصوص ادویات کی تیاری میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
یہ تحقیق اس بنیادی سائنسی مسئلے سے متعلق ہے جہاں بعض سالمات اپنے عکس یا 'مرر امیج' کی طرح ہوتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر ہو بہو فٹ نہیں بیٹھتے۔ اس رجحان کو کیمسٹری کی زبان میں چیرلٹی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں ادویات سازی کے دوران اس توازن کو برقرار رکھنا اور مطلوبہ سالماتی شکل حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ سمجھا جاتا تھا، جس پر ہنری کیگن اور کینسو سوائی نے اپنی انقلابی تحقیق کے ذریعے قابو پایا۔
نوبل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں سائنسدانوں کی اس غیر معمولی دریافت سے ایسی جدید ادویات بنانے میں مدد ملی ہے جو زیادہ مؤثر اور محفوظ ہیں۔ ان کی تکنیک کی مدد سے کیمیا دان اب زیادہ درستگی کے ساتھ مخصوص سالماتی ڈھانچے تیار کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، جو کہ جدید میڈیکل سائنس اور کیمیکل انرجی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس عالمی اعزاز کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کی جانب سے ہنری کیگن اور کینسو سوائی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ تحقیق آنے والے برسوں میں نہ صرف فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو مزید ترقی دے گی بلکہ نئی اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات کی تیاری میں بھی اہم ترین کردار ادا کرے گی۔