LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی گرین پارٹی کی نئی پالیسی اور صهیونزم کا تنازعہ

News Image
برطانوی گرین پارٹی کی نئی پالیسی صهیونزم کے حوالے سے لاعلمی کی عکاس ہے جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد نہیں کرتی۔ اس قسم کے پالیسی فیصلوں سے خطے میں جاری کشمکش کے حل کی بجائے غلط فہمیاں مزید بڑھتی ہیں۔
برطانوی گرین پارٹی کی جانب سے حال ہی میں اختیار کی جانے والی نئی پالیسی پر سیاسی و فکری حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی کا یہ مؤقف کہ صهیونزم نسل پرستی ہے، تاریخی حقائق سے چشم پوشی اور صهیونزم کے حقیقی پس منظر سے مکمل لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق اس قسم کے نعرے بازی پر مبنی فیصلے زمینی حقائق کو مسخ کرتے ہیں اور خطے کے دیرینہ مسائل کا کوئی عملی حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ پالیسی کسی بھی صورت میں فلسطینی عوام کے جائز حقِ خود ارادیت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صهیونزم اور ریاستِ اسرائیل کے سیاسی اقدامات کے درمیان تفریق کیے بغیر اس طرح کے عمومی بیانات دینا امن کی کوششوں کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔ فلسطین کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کے لیے تعمیری مذاکرات اور دو ریاستی حل کی طرف سنجیدہ پیش رفت کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے متنازع بیانات کی جو فریقین کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کریں۔ برطانوی گرین پارٹی کے اندر بھی اس نئی پالیسی پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور کئی معتدل رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پارٹی کو اپنی خارجہ پالیسی کے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطینی عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے منصفانہ مطالبات کی حمایت کے لیے عقل و فہم پر مبنی سفارتی حکمت عملی درکار ہے۔ صرف نظریاتی نعروں سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے بین برادری میں تناؤ بڑھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانوی سیاست میں اس معاملے پر مزید گرما گرم بحث ہوگی اور مختلف جماعتیں اس حساس مسئلے پر اپنے اپنے مؤقف کو واضح کرنے کی کوشش کریں گی۔