LIVE
Loading Breaking News...

يمن ميں شديد لڑائی، فریقین کو بھاری نقصانات کی اطلاعات

News Image
يمن میں جاری کشیدگی اور شدید لڑائی کے نتیجے میں فریقین کو بھاری جانی و مالی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے ميدان میں کوئی علاقہ نہیں چھوڑا۔
يمن میں ایک بار پھر جنگی حالات شدت اختیار کر گئے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی شدید لڑائی کے نتیجے میں دونوں جانب سے بھاری نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یمنی فوجی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے مخا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور بحیرہ احمر کے آبی راستے کو بھی مکمل طور پر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس پیشرفت کو حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ ملک میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب، ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے سرکاری اور عسکری دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ حوثی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں ان کا کوئی زمینی نقصان نہیں ہوا اور وہ بدستور اپنے مورچوں پر قائم ہیں۔ یہ تازہ ترین کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس تنازع کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم شدید لڑائی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فی الحال کچھ نرمی دیکھی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یمن کی خانہ جنگی میں ملوث مختلف فریقین کے مابین محاذ آرائی میں اضافے نے خطے میں ایک بار پھر انسانی بحران کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز نہ کی گئیں تو یمن کے عوام کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔