LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حوثی حملے اور طوفان وجوہات

News Image
حوثی حملوں اور خلیج میکسیکو میں سمندری طوفان کے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں اور قدرتی آفات سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجوہات مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، حوثی باغیوں کے حملے اور امریکی خلیج میں آنے والا ممکنہ سمندری طوفان ہیں۔ مالیاتی منڈیوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تیل کی برآمدات اور سپلائی کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جس نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ سعودی عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے سپلائی چین کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا موجودہ تیل کی برآمدات پائیدار بھی رہ سکیں گی یا نہیں۔ دوسری جانب، امریکی گلف کے علاقے میں سمندری طوفان کے خدشات کے پیش نظر تیل اور گیس کی پیداوار کو عارضی طور پر خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ شیل جیسی بڑی توانائی کمپنیوں اور مختلف توانائی منڈی کے اداروں نے ان خطرات کا نوٹس لیا ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں ایک بار پھر ایک سو ڈالر فی بیرل تیل کے امکان پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب تک جغرافیائی سیاسی تنازعات اور موسمیاتی خطرات برقرار رہیں گے، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔