LIVE
Loading Breaking News...

دنیا کی سب سے بڑی پینگوئنز کالونی زوال کا شکار، موسمیاتی تبدیلی بڑا سبب

News Image
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک دورافتاده آتش فشاں جزیرے پر رہنے والے پینگوئنز کی تعداد میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات دنیا بھر میں شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اب اس کی زد میں قطبی خطے اور دورافتادہ جزائر بھی آ چکے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دنیا میں پینگوئنز کی سب سے بڑی کالونی میں تعداد کے لحاظ سے ایک انتہائی تشویشناک اور ڈرامائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پینگوئن ایک دورافتادہ آتش فشاں جزیرے پر آباد ہیں جہاں ماحولیاتی توازن بگڑنے کی وجہ سے ان کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سائنسدانوں اور محققین کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے زوال کی بنیادی وجہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جن کی وجہ سے ان کا قدرتی مسکن اور خوراک کی دستیابی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ محققین کے مطابق پینگوئنز کی اس مخصوص نسل کی خوراک سمندر میں موجود چھوٹے جانداروں پر مشتمل ہوتی ہے، جن کے حصول کے لیے انہیں برفانی تودوں اور سرد پانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور برف کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے ان جانداروں کی تعداد میں بھی کمی آ رہی ہے، جس کا براہ راست اثر پینگوئنز کی افزائشِ نسل اور مجموعی بقا پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس عالمی مسئلے پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ منفرد جانور ہمیشہ کے لیے اس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ماحولیاتی تنظیموں اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ متعدد سائنسی اداروں کا مطالبہ ہے کہ اس دورافتادہ جزیرے کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ان پینگوئنز کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف سخت پالیسیاں اپنائیں تاکہ نہ صرف ان بے زبان مخلوقات بلکہ پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو تباہی سے بچایا جا سکے۔