World
فرانس میں اسٹن گرنیڈ کے استعمال پر پابندی، طلبا کا احتجاج
فرانس میں طلبا کے احتجاج کے دوران ایک پندرہ سالہ لڑکے کا ہاتھ اڑ جانے کے بعد پولیس نے اسٹن گرنیڈز کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ملک بھر میں حفاظتی اقدامات اور پولیس کی حکمت عملی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی حکام نے طلبا کے مظاہروں کے دوران اسٹن گرنیڈز کے استعمال کو فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سخت قدم ایک دردناک واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں ایک پندرہ سالہ لڑکا اس خطرناک ہتھیار کی زد میں آ کر اپنے ہاتھ سے محروم ہو گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ اور متعلقہ حکام نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسٹن گرنیڈ کا استعمال مقررہ ضوابط کے مطابق تھا یا نہیں۔ دوسری جانب، ملک کے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے پولیس کی اس کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور شہریوں کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرہ کرنے والے طلبا کے خلاف اتنی طاقت کا استعمال کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد سے فرانس کے مختلف شہروں میں کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور طلبا تنظیمیں مزید احتجاجی مظاہروں کی تیاری کر رہی ہیں۔ پولیس حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے کم نقصان دہ اور زیادہ محفوظ طریقے اختیار کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔