World
لندن میں فلسطین کے حامی مظاہرے، گیارہ افراد گرفتار
برطانوی دارالحکومت لندن میں فلسطین کے حق میں نکالے گئے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گیارہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ان میں سے پانچ افراد کو نسلی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں فلسطین کے حق میں نکالے گئے احتجاجی مظاہروں کے دوران قانون شکنی اور امن عامہ کے مسائل پیدا کرنے پر پولیس نے مجموعی طور پر گیارہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان مظاہروں کا مقصد غزہ اور فلسطین میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔میڈیا رپورٹس اور میٹروپولیٹن پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان گرفتاریوں میں سے پانچ افراد کو براہ راست نسلی منافرت پھیلانے اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ مخصوص گرفتاری برطانوی یہودیوں کے نمائندہ بورڈ 'بورڈ آف ڈیپوٹیز آف برطانوی جیوز' کے دفتر کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران عمل میں آئی، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے، نفرت انگیز نعرے بازی کرنے یا کسی بھی طبقے کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دارالحکومت میں امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات رہے تاکہ شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک اور روزمرہ کے امور متاثر نہ ہوں۔گرفتار کیے جانے والے افراد سے پولیس کے متعلقہ تھانوں میں تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کے مزید شواہد اور ویڈیو فوٹیج بھی جمع کی جا رہی ہے تاکہ دیگر ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پُرامن رہیں اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی آواز بلند کریں، جبکہ پولیس شہر میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔