LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا میں ذہنی امراض کے حامل افراد کے لیے خود ساختہ موت کا منصوبہ معطل

News Image
کینیڈا کی حکومت نے ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو خود ساختہ موت کی سہولت دینے کے منصوبے کو فی الحال روک دیا ہے۔ مارچ 2027ء میں اس قانون کا اطلاق ہونا تھا لیکن اب اسے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے لیے معاون موت (assisted dying) کے متنازع پروگرام کی توسیع کو فی الحال غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب اکیلے ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے مارچ 2027ء تک اس سہولت کے حصول کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس حساس موضوع پر معاشرتی، طبی اور قانونی حلقوں میں گہرے تحفظات پائے جاتے ہیں جن کا ازالہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ابتدائی حکومتی منصوبے کے مطابق کینیڈا میں مارچ 2027ء سے ایسے تمام افراد کو طبی بنیادوں پر موت کی اجازت دی جانی تھی جن کی بنیادی بیماری کوئی نفسیاتی یا ذہنی عارضہ ہو۔ تاہم اس فیصلے پر ملک کے اندر اور باہر شدید بحث چھڑ گئی تھی۔ طبی ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ذہنی امراض سے دوچار افراد کے لیے اس قسم کی سہولت کا نفاذ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے معاشرے میں غلط پیغامات جا سکتے ہیں۔ اس نئے فیصلے کے بعد کینیڈین حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ملک کا طبی نظام اور نفسیاتی صحت کا ڈھانچہ اس نوعیت کے پیچیدہ فیصلوں کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل میں گھرے افراد کو زندگی ختم کرنے میں مدد دینے کی بجائے ان کی بہتر دیکھ بھال، علاج اور مشاورت پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ کینیڈا میں اس قانون کی معطلی کو انسانی زندگی کے تحفظ کے حامیوں کی طرف سے ایک اہم اور درست سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔