Entertainment
اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے کا بوٹلیگ لیک وائرل
مارول اسٹوڈیوز اور سونی کی جانب سے ریلیز سے قبل اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے کا ایک بوٹلیگ ورژن انٹرنیٹ پر لیک ہو گیا ہے۔ اس غیر قانونی لیک کو ریلیز کے فورا بعد لاکھوں شائقین کی جانب سے دیکھا گیا ہے۔
فلمی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب مارول اسٹوڈیوز اور سونی کی آنے والی انتہائی متوقع فلم 'اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے' کا ایک بوٹلیگ ورژن انٹرنیٹ پر لیک ہو گیا۔ اس غیر قانونی طور پر نشر ہونے والے مواد کو دنیا بھر میں لاکھوں شائقین کی جانب سے دیکھا جا چکا ہے، جس نے پروڈکشن ہاؤسز کی سیکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ فلمی حلقوں میں اس لیک کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے فلم کی باکس آفس کمائی اور سسپنس کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
واضح رہے کہ اسپائیڈر مین کے کردار کو مشہور مصنف اسٹین لی اور آرٹسٹ اسٹیو ڈٹکو نے 1962 میں تخلیق کیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے بچوں اور بڑوں کا پسندیدہ سپر ہیرو بن گیا۔ اس کردار پر بننے والی ہر فلم کا مداح بے صبری سے انتظار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس سے متعلق کوئی مواد سامنے آتا ہے، وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتا ہے۔ موجودہ لیک کے بعد سے دونوں اسٹوڈیوز کے حکام حرکت میں آ گئے ہیں اور انٹرنیٹ سے غیر قانونی ویڈیوز کو ہٹانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ لیک کہاں سے اور کیسے ہوا، لیکن ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس لیک کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے جہاں کچھ مداح اس مواد کو دیکھنے سے گریز کرنے کی اپیل کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد نے اسے تجسس کے تحت دیکھ بھی لیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے لیکس سے فلم کے اصل ناظرین کی تعداد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اگرچہ مارول کے پرستار عام طور پر سنیما گھروں میں جا کر ہی فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
اسپائیڈر مین کی طویل تاریخ میں اس قسم کے لیکس پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن موجودہ واقعے کا پیمانہ کافی بڑا ہے۔ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ اسٹوڈیوز کو اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس لیک کے فلم کی آفیشل مارکیٹنگ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔