World
اسرائیل میں الٹرا آرتھوڈوکس رہنما کے بیانات پر سیاسی بحران
اسرائیل میں ایک نمایاں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی رہنما ربی دوو لینڈو کے صہیونی مخالف بیانات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان تبصروں سے صیہونیت، فوج میں جبری بھرتی اور وزیراعظم نیتنیاہو کے مذہبی اتحادیوں کے درمیان موجود کشیدگی مزید کھل کر سامنے آگئی ہے۔
اسرائیل کی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جب ایک سرکردہ الٹرا آرتھوڈوکس یہودی رہنما ربی دوو لینڈو کے صہیونی مخالف بیانات نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان بیانات نے اسرائیل کے اندر صیہونیت کی فکری اساس، فوج میں مذہبی طلباء کی جبری بھرتی کے حساس معاملے اور وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کے الٹرا آرتھوڈوکس سیاسی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دیرینہ کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سیاست پہلے ہی شدید اندرونی خلفشار اور انتخابی تنازعات کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ربی لینڈو کے یہ تبصرے حکومتی اتحاد کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ نیتنیاہو کی حکومت کا انحصار بڑی حد تک انہی مذہبی جماعتوں پر ہے جو اب تنازعات کے مرکز میں ہیں۔ اس بیان نے نہ صرف سیکولر اور مذہبی حلقوں کے درمیان خلیج کو مزید چوڑا کر دیا ہے بلکہ آنے والے انتخابات کے نتائج پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ فوج میں شمولیت کے حوالے سے الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹی کے تحفظات اور اب ان کے روحانی رہنما کی طرف سے صیہونیت پر تنقید نے حکومتی اتحاد کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی جوڑ توڑ اور احتجاجی مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے جس سے نیتنیاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔