World
شمالی ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی موجودگی کی رپورٹس
شمالی ایتھوپیا کے علاقوں میں اریٹیریا کے فوجیوں کی موجودگی کے عینی شاہدین کے دعووں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اریٹیریا کی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایتھوپیا کی جانب سے نئی جنگ چھیڑنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔
افریقہ کے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کے بادل منڈلانے لگے ہیں کیونکہ شمالی ایتھوپیا کے مختلف علاقوں میں اریٹیریا کے فوجیوں کی مبینہ موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سرحدی علاقوں میں اریٹیرین فوجیوں کی نقل و حرکت کو دیکھا ہے، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پرانی کشیدگی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریقین کے درمیان پہلے سے ہی تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔
ان الزامات کے جواب میں اریٹیریا کی حکومت نے سختی کے ساتھ ان تمام خبروں اور دعووں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اریٹیرین حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات حقیقت کے منافی ہیں اور یہ صرف ایتھوپیا کی جانب سے خطے میں مزید جنگ اور تنازعات کو ہوا دینے کا ایک مذموم بہانہ ہے۔ اریٹیریا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ امن کے خواہاں ہیں لیکن وہ کسی بھی بیرونی پروپیگنڈے کا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ کشیدگی نے خطے کے امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر تعلقات انتہائی پیچیدہ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے مابین شدیدمذکورہ سرحدی جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ عالمی برادری اور علاقائی تنظیمیں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور سفارتی ذرائع سے معاملات کو حل کیا جا سکے۔