World
روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 24 ہلاک
روس کی جانب سے یوکرین پر رات بھر کیے جانے والے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یوکرین حکام کے مطابق اس بڑے حملے میں درجنوں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔
روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے ہیں جن میں کم از کم 24 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حالیہ مہینوں کے دوران ہونے والے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک ہے جس میں دشمن نے انتہائی چالاکی اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس بساط پر کیے جانے والے حملے میں روس کی جانب سے کل 130 ڈرونز، 48 کروز میزائل اور دیگر بلیسٹک میزائل داغے گئے جنہوں نے دارالحکومت سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
حملوں کے بعد یوکرین کے کئی علاقوں میں شدید تباہی مچ گئی ہے جہاں ریسکیو ادارے اور فائر فائٹرز فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ رہائشی عمارتیں، توانائی کا انفراسٹرکچر اور دیگر اہم مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی معطل ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
یوکرین کے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس سنگین حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ سردیوں سے پہلے عوام کو مشکلات میں دھکیلا جا سکے۔ دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان کے طے شدہ فوجی اہداف کے خلاف کیے گئے ہیں اور یوکرین کے فوجی صنعتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس تازہ ترین خونریز تصادم کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور امن کی تمام کوششیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم زمینی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ اور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے دونوں ممالک کے درمیان طویل ہوتی ہوئی جنگ کے خاتمے کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔