LIVE
Loading Breaking News...

ڈی جی آئی ایس پی آر کا سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی پر اہم بیان

News Image
ترجمان پاک فوج میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ یہ بیان حالیہ خطے کی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ترجمان پاک فوج ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی فوجی دستے گزشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف دفاعی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں دفاعی تعاون اور دوطرفہ سکیورٹی معاہدوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف مباحثے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے عسکری تعلقات تاریخی ہیں اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ سلسلہ کسی نئے معاہدے کا محتاج نہیں بلکہ یہ برسوں پر محیط تعاون کی ایک تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تربیت، مشاورت اور دفاعی معاونت کے متعدد معاہدے طے پائے ہیں جن کے تحت پاکستانی افسران اور جوان سعودی مسلح افواج کو تربیت دینے اور تکنیکی خدمات فراہم کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاک فوج کے دستے ہمیشہ سے سعودی عرب کی ارضی سالمیت اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پرعزم رہے ہیں اور اس دیرینہ تعاون نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی روابط کو خطے کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی کلیدی تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس حقیقت کو دہرانا کہ پاکستانی دستے طویل عرصے سے اس خطے میں موجود ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے برادر ممالک کے ساتھ دفاعی اور سٹریٹیجک پارٹنرشپ کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عسکری میدان میں تعاون کا یہ تسلسل آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے کیونکہ خطے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔