LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

News Image
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے خیبر میں مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں کوئی فوجی آپریشن برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 8 اکتوبر کے احتجاجی مارچ کی منزل تبدیل کر کے اب پشاور کر دی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے قبائلی ضلع خیبر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ صوبے کی سرزمین پر کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اپنے چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے اور پارٹی کارکنان اپنے رہنماؤں کی قیادت میں مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران پارٹی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سات مطالبات پر مشتمل ایک مسودہ بھی سامنے لایا گیا ہے جس میں مختلف سیاسی اور انتظامی امور پر مطالبات رکھے گئے ہیں، اگرچہ حکومت کی جانب سے اس دستاویز کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، مارچ کی انتظامی کمیٹی نے آئندہ کی حکمت عملی کے تحت اہم فیصلے کیے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 8 اکتوبر کو مارچ کی حتمی منزل تبدیل کر دی گئی ہے اور اب تمام شرکا پشاور کا رخ کریں گے۔ پشاور میں اس احتجاج کو ایک بڑے پاور شو میں تبدیل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جہاں پارٹی قیادت آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ اس تبدیلی کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے تحریک کو مزید منظم بنانا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ان نئے فیصلوں کے بعد ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میں سیاسی گرمی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ عوام اور پارٹی ورکرز اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔