World
سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملے، تین افراد ہلاک
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر کیے جانے والے حملوں میں تین شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان حملوں سے خطے میں یمن جنگ کے اثرات مزید وسیع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یمن میں جاری خانہ جنگی کے اثرات اب خطے کے دوسرے ممالک تک شدت کے ساتھ پہنچ رہے ہیں، جہاں ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں تین معصوم شہری جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق یہ حملے کنگ خالد اور ابھا ہوائی اڈوں کو ہدف بنا کر کیے گئے، جس سے ہوائی اڈوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ یمن میں جاری اس طویل جنگ کے دوران تنازعے کا دائرہ کار اب ہمسایہ ملکوں تک پھیلتا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان فضائی اور میزائل حملوں نے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک اور بڑا دھکا دیا ہے اور سکیورٹی فورسز کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے اندر بھی لڑائی میں شدت آنے کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمن کی تازہ ترین لڑائی سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں تاہم مسلسل جاری جھڑپوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر سیاسی بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ تنازعہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و امان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔