World
ٹوئی ریور کروز اسکینڈل: مسافروں کو کروز کے بجائے بس کے سفر پر مجبور کر دیا گیا
برطانوی سیاحوں نے ٹوئی کے ریور کروز کے دوران پانی کے سفر کی بجائے گھنٹوں بسوں میں سفر کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے باوجود انہیں وہ سہولیات نہیں ملیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔
لندن: ٹوئی (Tui) ریور کروز کے مسافروں نے اس وقت شدید مایوسی اور غصے کا اظہار کیا ہے جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا مہنگا بحری سفر دریا کے راستے کے بجائے طویل اور تھکا دینے والے بس کے سفر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مسافروں نے اس چھٹی کے لیے ہزاروں پاؤنڈز کی بڑی رقم خرچ کی تھی، مگر انہیں وہ پرتعیش اور پُرسکون تجربہ حاصل نہیں ہو سکا جس کا کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا۔ متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ ان کا زیادہ تر وقت خوبصورت مناظر دیکھنے کے بجائے سڑکوں پر بسوں کے اندر سفر کرتے ہوئے گزرا۔
ذرائع کے مطابق، متعدد مسافروں نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں روانگی سے قبل یا سفر کے آغاز پر اس اہم تبدیلی کے بارے میں مناسب انداز میں مطلع نہیں کیا گیا۔ جب وہ جہاز پر سوار ہونے کے منتظر تھے تو انہیں بتایا گیا کہ ناگزیر وجوهات یا انتظامات کی خرابی کے باعث دریا کا راستہ ممکن نہیں رہا، اور اب انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں بسوں میں سفر کرنا ہوگا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ان کی تعطیلات کا مزہ کرکرا کرنے کے مترادف ہے بلکہ ان کے ساتھ سراسر ناانصافی بھی ہے کیونکہ انہوں نے پانی پر تیرتے ہوئے ہوٹل جیسی سہولیات کے لیے بھاری قیمت چکائی تھی۔
اس واقعے کے بعد سیاحت کے شعبے میں صارفین کے حقوق پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے اور متاثرہ افراد نے ٹوئی انتظامیہ سے ہرجانے اور معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ چھٹیاں انسان سال بھر کی محنت کے بعد سکون پانے کے لیے بناتا ہے، مگر اس قسم کی بدانتظامی ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔ دوسری جانب، متعلقہ ٹور آپریٹر کی طرف سے اس معاملے پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا مسافروں کو مالی معاوضہ دیا جائے گا یا مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔