World
انڈونیشیا کی آگ اور سنگاپور میں زہریلا دھواں - نیکسورا نیوز
انڈونیشیا میں جنگلات میں لگنے والی بدترین آگ کی وجہ سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں نے سنگاپور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے باعث سنگاپور کے کئی مشہور اور تاریخی مقامات دھند اور دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا میں ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں انڈونیشیا کے جنگلات میں لگنے والی سال کی بدترین آگ کے اثرات اب پڑوسی ممالک تک پھیل چکے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کا سب سے زیادہ نشانہ سنگاپور بنا ہے، جہاں فضا میں پھیلنے والے زہریلے دھوئیں اور دھند نے زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس گہرے دھوئیں کی وجہ سے سنگاپور کے شہر کے مشہور اور تاریخی مقامات عملاً نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں اور عام دنوں میں نظر آنے والا شاندار شہری منظر نامہ اب دھند کی موٹی چادر کے پیچھے چھپ گیا ہے۔ خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے روایتی زرعی طریقوں اور جنگلات میں لگنے والی بے قابو آگ نے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سنگاپور کے محکمہ ماحولیات اور متعلقہ اداروں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس زہریلے دھوئیں کے اثرات سے بچنے کے لیے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ ہوا کا معیار انتہائی خطرناک حد تک گر چکا ہے، جس سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکام کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور کھڑکیوں کو بند رکھیں تاکہ زہریلے ذرات گھروں کے اندر نہ جا سکیں۔ اس ماحولیاتی آلودگی نے نہ صرف سیاحت کو متاثر کیا ہے بلکہ روزمرہ کے کاروباری اور تعلیمی امور پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیمیں اور متاثرہ ممالک اب اس دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے انڈونیشیا کی حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ہر سال خشک موسم میں انڈونیشیا کے مختلف حصوں میں زمین صاف کرنے کے لیے جنگلات کو آگ لگائی جاتی ہے، جو اکثر بے قابو ہو کر پورے خطے میں تباہ کن اسموگ اور دھند کی لہر کا باعث بنتی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ان ممالک کے درمیان اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف خطے کے قیمتی جنگلات کو بچایا جا سکے بلکہ کروڑوں شہریوں کی صحت کو بھی زہریلے دھوئیں کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔