LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں کروڑوں پاؤنڈ کا پی پی ای فراڈ، ملزم کو قید

News Image
برطانیہ کی نارتھمپٹن کراؤن کورٹ نے کروڑوں پاؤنڈ کے پی پی ای فراڈ کیس میں ملوث کریگ مورس کو تین سال اور نو ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہونے والے مالی اسکینڈلز کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبائی صورتحال کے دوران کروڑوں پاؤنڈ کے پی پی ای (ذاتی حفاظتی سامان) کے فراڈ میں ملوث ایک شخص کو قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے عدالت نے اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ نارتھمپٹن کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کریگ مورس کو مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال اور نو ماہ قید کی سزا کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ مقدمہ اس دور سے تعلق رکھتا ہے جب دنیا بھر سمیت برطانیہ میں بھی طبی آلات اور حفاظتی لباس کی شدید قلت تھی اور اس بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے غیر قانونی طریقے سے مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ عدالت میں استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کے مطابق ملزم نے پی پی ای کے نام پر حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ فراڈ کیا اور بھاری رقوم بٹوریں۔ اس مکروہ دھندے نے اس وقت کے ہنگامی حالات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جب طبی عملے کو فوری طور پر حفاظتی سامان کی ضرورت تھی۔ نارتھمپٹن کراؤن کورٹ کے جج نے مقدمے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد سزا کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وبائی امراض یا قومی ہنگامی حالات کے دوران اس طرح کے جرائم ناقابل برداشت ہیں اور معاشرے میں ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ برطانیہ میں وبائی امراض کے فنڈز اور ہنگامی خریداری کے معاہدوں میں مبینہ بدعنوانی اور فراڈ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ادارے متحرک ہیں۔ کریگ مورس کے خلاف یہ فیصلہ ان تحقیقاتی کوششوں کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا ہے جو حکومتی فنڈز کے غبن اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلوں سے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کو واضح پیغام ملتا ہے کہ قومی بحرانوں کے دوران قانون شکنی پر کڑی سزا دی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد برطانوی عوام اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی انصاف کے تقاضے پورے ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے فیصلے کے بعد متعلقہ ادارے فراڈ کے دیگر ایسے معاملات میں بھی مزید تیز رفتاری سے کارروائیاں کریں گے تاکہ قومی سرمائے کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے اور مستقبل میں اس قسم کے فراڈ کی روک تھام کی جا سکے۔