LIVE
Loading Breaking News...

برازیل: بولسونارو خاندان کے خلاف ریو ڈی جنیرو میں بڑا احتجاج

News Image
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہزاروں طلبا اور مظاہرین نے فلاویو بولسونارو کے صدارتی رن آف میں پہنچنے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے بولسونارو خاندان کی سیاست کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے ریلی نکالی۔
برازیل کے مشہور شہر ریو ڈی جنیرو میں اس وقت سیاسی ہلچل اور شدید احتجاج دیکھنے میں آیا جب ہزاروں کی تعداد میں طلبا اور عام شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر بولسونارو خاندان کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاجی لہر اس وقت اٹھی جب فلاویو بولسونارو نے ملک کے صدارتی انتخاب کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے یعنی رن آف میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے اور ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا کہ باپ کو نہیں اور بیٹے کو بھی نہیں۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس سیاسی خاندان کی پالیسیاں ملک کے جمہوری اور سماجی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہیں اور وہ برازیل کو ماضی کی قدامت پسندی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ ریلی کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے، تاہم مظاہرہ مجموعی طور پر پرامن رہا۔ طلبا تنظیموں اور مختلف سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے اس موقع پر اپنے خطابات میں کہا کہ برازیل کے عوام اب مزید اس سیاسی ہتھکنڈوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ترقی، انصاف اور مساوات کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے اس قسم کی قیادت کی نفی کرنا ضروری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس احتجاج نے برازیل کے صدارتی انتخابات کو مزید دلچسپ اور متنازعہ بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے رن آف کا دن قریب آ رہا ہے، سیاسی گہमागहमी میں بھی تیزی آ رہی ہے اور دونوں جانب سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں برازیل کی سیاست کا رخ کس طرف جاتا ہے، اس کا انحصار اسی عوامی تحریک اور انتخابی نتائج پر ہوگا۔