World
ڈونلڈ ٹرمپ کا نوبل امن انوارڈ سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نوبل امن انوارڈ نہ دیا جانا اس باوقار کمیٹی کے لیے ایک بڑی بدنامی اور ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں عالمی سطح پر ہونے والے امن معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نوبل امن انوارڈ کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں یہ عالمی اعزاز نہیں دیا جاتا تو یہ نوبل امن انوارڈ کمیٹی کے لیے ایک بہت بڑی بدنامی اور عدم توجہی کی علامت ثابت ہوگا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ انہوں نے اپنے صدارتی دور میں دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے جو تاریخی اقدامات کیے ہیں، وہ اس انوارڈ کے مکمل مستحق ہیں۔
اپنے دور اقتدار کے دوران مختلف بین الاقوامی تنازعات کے حل اور تاریخی امن معاہدوں کی मध्यست (ثالثی) کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ سمیت کئی خطوں میں جنگوں کو روکا اور تعلقات کو بحال کیا۔ ان کے حامیوں کا بھی یہی موقف رہا ہے کہ ٹرمپ کی جرأت مندانہ سفارتی کوششوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پرانے تنازعات کا پُرامن حل نکالا گیا، اس لیے وہ اس اعزاز کے سب سے بڑے حقدار ہیں۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی انداز اور خود اعتمادی کا مظہر ہے۔ نوبل امن انوارڈ کے لیے نامزدگیاں اور فیصلے ایک انتہائی خفیہ اور طویل عمل کے بعد کیے جاتے ہیں، جہاں دنیا بھر سے شخصیات کو پرکھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا سیاسی رہنماؤں کی سفارتی کامیابیوں کو اس قسم کے اعلیٰ ترین عالمی اعزازات سے نوازا جانا چاہیے یا نہیں۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات اکثر میڈیا کی سرخیوں میں رہتے ہیں اور ان کے حامیوں اور مخالفین کی طرف سے ان پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ نوبل کمیٹی اور عالمی سیاسی حلقے ٹرمپ کے اس تازہ ترین دعوے پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ ٹرمپ آئندہ بھی سیاسی میدان میں سرگرم رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔