LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ: اسرائیلی جارحیت کے دوران معصوم بچے کی بیماری میں خطرناک حد تک اضافہ

News Image
اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ میں ایک کمسن بچے کی خود مدافعت یا آٹو امیون بیماری اچانک شدید ہو گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جنگی حالات اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے متاثرہ بچوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور جنگ کے تباہ کن اثرات نے عام شہریوں بالخصوص بچوں کی زندگیوں کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ میں ایک کمسن بچے کی خود مدافعت یعنی آٹو امیون بیماری جنگ کے دوران جاری تناؤ اور نامساعد حالات کی وجہ سے شدید ترین شکل اختیار کر گئی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں مسلسل بمباری، ادویات کی شدید قلت اور اسپتالوں کی تباہی نے پہلے سے بیمار افراد کے لیے زندہ رہنا محال بنا دیا ہے۔ اس قسم کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کو مستقل طبی نگرانی، خصوصی غذا اور مہنگے علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ جنگی صورتحال میں بالکل بھی دستیاب نہیں ہیں۔ غزہ کے مقامی ڈاکٹروں اور بین الاقوامی طبی امدادی تنظیموں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ محاصرے اور مسلسل حملوں کی وجہ سے آٹو امیون اور دیگر دائمی امراض میں مبتلا سینکڑوں بچوں کی جانیں داؤ پر لگ چکی ہیں۔ ادویات کی درآمد پر سخت پابندیوں کے باعث نہ صرف اس بچے کو بلکہ ہزاروں دیگر معصوم مریضوں کو بھی زندگی بچانے والی بنیادی ادویات اور علاج سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بارہا اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کم از کم بیمار اور زخمی بچوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے اور انسانی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔