Sports
فیفا ورلڈ کپ نجکاری کا منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟ اہم وجوہات
برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے دیکھی جانے والی دستاویزات کے مطابق فیفا کے ورلڈ کپ کو پرائیویٹائز کرنے کے پلان میں کئی خامیاں تھیں۔ فیفا نے ممبران کو جو سیلز پچ دی تھی، وہ مالیاتی اور انتظامی خدشات کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے صحافی فیصل اسلام کی جانب سے حاصل کی گئی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ فیفا کا ورلڈ کپ کی جزوی نجکاری کا منصوبہ آخر کار کیوں کھٹائی میں پڑ گیا۔ فیفا کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے ممبران کو ایک خصوصی سیلز پچ بھیجی گئی تھی جس میں اس ڈیل کے خدوخال واضح کیے گئے تھے۔ تاہم، تجزیہ کاروں اور متعلقہ فریقین کی جانب سے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور چار بنیادی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے یہ منصوبہ کبھی بھی عملی طور پر کامیاب ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔
پہلی بڑی وجہ مالیاتی خطرات اور منافع کی غیر یقینی تقسیم تھی۔ فیفا کی اس مجوزہ ڈیل میں سرمایہ کاروں کو تو طویل المدتی منافع کا لالچ دیا گیا تھا لیکن اس سے عالمی فٹ بال کے اصل منتظمین یعنی فیفا کے اپنے مالیاتی توازن پر جو منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے، ان کا اندازہ لگانے میں حکام ناکام رہے۔ رکن ممالک کی اکثریت اس بات پر تشویش میں مبتلا تھی کہ اس طرح کے اقدامات سے کھیل کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے اور تمام تر فنڈز چند مخصوص ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں گے۔
دوسری اہم وجہ فیفا کی اندرونی گورننس اور شفافیت کے حوالے سے سوالات تھے۔ ممبران کے سامنے جب اس منصوبے کے معاہدے رکھے گئے تو اس میں ڈسپلن اور فیصلہ سازی کے اختیارات کے حوالے سے ابہام پایا جاتا تھا۔ بڑے پیمانے پر ٹورنامنٹس کے انعقاد اور کمرشل حقوق کی فروخت کے لیے جس قسم کی شفاف نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس پلان میں اس کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فٹ بال کے کئی بڑے اسٹیک ہولڈرز نے اس پر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اس کی مخالفت کی۔
تیسری اور چوتھی وجہ شائقین اور کھلاڑیوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ براڈکاسٹنگ اور اسپانسرشپ کے روایتی ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات سے جڑی ہوئی تھی۔ پرائیویٹائزیشن کے عمل سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خدشہ تھا جو عام شائقین کی پہنچ سے ورلڈ کپ کو دور کر سکتا تھا۔ ان تمام عوامل نے مل کر فیفا کے اس مہتواکانکشی منصوبے کو اس کے ابتدائی مراحل میں ہی ناکام بنا دیا اور فیفا کو اپنے ان فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔