Politics
امریکی انتخابات: ریپبلکنز اور آزاد ووٹرز کا شفافیت پر عدم اعتماد
گیلاپ کے ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ میں انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر عوامی اعتماد میں تاریخی خلیج حائل ہو چکی ہے۔ سروے کے مطابق ریپبلکن اور آزاد ووٹرز کی بڑی تعداد ملکی انتخابات کی درستگی پر شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
امریکہ میں انتخابی عمل اور جمہوریت کی شفافیت کو لے کر ایک نیا اور تشویشناک بحران سامنے آیا ہے۔ معروف تحقیقی ادارے گیلاپ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کے درمیان ملکی انتخابات کی صحت اور درستگی پر گہرے اور تاریخی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بالخصوص ریپبلکن پارٹی کے حامیوں اور سیاسی طور پر آزاد ووٹرز کے دلوں میں انتخابی نظام کے حوالے سے اعتماد کا فقدان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ صورتحال امریکی جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی خلیج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی نے عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی جو روایات تھیں، حالیہ برسوں میں ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ریپبلکن حلقوں میں یہ تاثر شدت اختیار کر رہا ہے کہ انتخابی عمل میں مبینہ طور پر خامیوں یا بے ضابطگیوں کا عنصر موجود ہے، جس کی وجہ سے وہ مجموعی انتخابی نظام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب آزاد ووٹرز کا ایک بڑا طبقہ بھی اب روایتی سیاسی جماعتوں اور اداروں کے دعووں پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔
گیلاپ کے اس سروے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اگر ووٹرز کا انتخابی عمل پر سے اعتماد اٹھ گیا تو آنے والے انتخابات کے نتائج کو قبول کرانا کتنا مشکل ہو جائے گا۔ جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ عوام کے اندر انتخابی شفافیت سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سیاسی قیادت اس گہرے ہوتے ہوئے عدم اعتماد کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے تاکہ جمہوریت پر عوام کے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔