LIVE
Loading Breaking News...

مشرقی بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کی اسرائیلی ڈیڈ لائن قریب

News Image
اسرائیل کی جانب سے برطانیہ کو مشرقی بیت المقدس میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کی دی گئی مہلت تیزی سے قریب آ رہی ہے۔ سابق برطانوی قونصل نے اس اسرائیلی اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔
مشرقی بیت المقدس میں برطانیہ کے قونصل خانے کو بند کرنے کے لیے اسرائیل کی طرف سے مقرر کردہ آخری تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حساس معاملے پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے کیونکہ یہ قدم خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس پیش رفت نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ سابق برطانوی قونصل ونسنٹ فین نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ سراسر بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی قونصل خانہ فلسطینی علاقوں میں اہم سفارتی اور انسانی خدمات انجام دیتا رہا ہے اور اس کو بند کرنے کا کوئی بھی دباؤ قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کی کوشش کرتا ہے تو اس سے برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے امن عمل اور فلسطین کے بارے میں برطانوی مؤقف پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ اس سفارتی کشیدگی کو کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔