Technology
امریکہ میں AI روبو کالز اور انتخابی معلومات کا خطرہ
فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے ایک ڈیموکریٹک رکن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی روبو کالز آنے والے انتخابات میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس تکنیکی خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز اردو) امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے ایک ڈیموکریٹک رکن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی روبو کالز آنے والے اہم انتخابات کے دوران غلط معلومات اور افواہیں پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال جمہوریت اور انتخابی عمل کے شفافیت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جنریٹیو اے آئی کی ترقی نے وائس کلوننگ اور ڈیپ فیک جیسی صلاحیتوں کو بے پناہ فروغ دیا ہے، جس سے کسی بھی شخص کی آواز کو ہو بہو نقل کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں انتخابی امیدواروں یا سرکاری حکام کی جعلی آڈیو کالز ووٹرز کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں کا مقصد عوام کا انتخابی نظام پر سے اعتماد متزلزل کرنا اور ووٹرز میں کنفیوژن پیدا کرنا ہے۔ ایف سی سی کے اس رکن نے تمام متعلقہ اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین خطرے کا ادراک کریں اور ایسے حفاظتی اقدامات نافذ کریں جن سے انتخابات سے قبل اس طرح کی نقصان دہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ کمیشن کی جانب سے اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ اے آئی کے ذریعے کی جانے والی ایسی تمام کالز کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کے لیے یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ اس نئی ڈیجیٹل یلغار کے سامنے کیسے بند باندھتے ہیں تاکہ آنے والے انتخابات منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد ہو سکیں۔