LIVE
Loading Breaking News...

راہول گاندھی احتجاج کے دوران گرفتار، بھارت میں سیاسی ہلچل

News Image
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ وہ حالیہ سیاسی کشیدگی کے درمیان انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن کے سرکردہ رہنما اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کو ملک کے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے ایک پرزور احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ دارالحکومت میں اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن جماعتیں اور ان کے کارکنان انتخابی نظام اور کمیشن کی کارکردگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ راہول گاندھی اس احتجاج کی قیادت کر رہے تھے اور انہوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر غیرجانبدار نہ رہنے کے شدید الزامات عائد کیے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے اور اس دوران راہول گاندھی سمیت کئی سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ راہول گاندھی نے حراست میں لیے جانے سے قبل اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں جمہوریت اور شفاف انتخابات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد بھارت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور کانگریس پارٹی کی جانب سے ملک بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری اور سیاسی رہنما کا بنیادی آئینی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب حکمران جماعت نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔