World
کینیا میں ایبولا وائرس کا پہلا کیس، سرحدی سکریننگ سخت اور الرٹ جاری
کینیا کی حکومت نے ایبولا کے پہلے کیس اور اس سے ہونے والی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سرحدی مقامات پر سکریننگ کے عمل میں مبینہ خامیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
نئی دہلی اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کینیا کی حکومت نے ملک میں ایبولا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے اور ایک ہلاکت کی تصدیق کے بعد حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سرحدوں پر مسافروں کی سکریننگ کے عمل میں کچھ خامیوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن پر ماہرین صحت اور حکومتی اداروں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان خدشات کے پیش نظر اب انتظامیہ نے تمام داخلی راستوں اور سرحدی چوکیوں پر چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام نے ملک بھر کے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ مریض کی بروقت تشخیص اور فوری علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے مطابق متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کی سفری ہسٹری کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ عوام میں ایبولا کی علامات، اس کے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے لیکن بروقت اور مؤثر اقدامات کی بدولت وائرس کے مزید پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم وقت تیار رہیں۔