LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا کا کے او ایس پی آئی انڈیکس اور شدید اتار چڑھاؤ کی وجوہات

News Image
جنوبی کوریا کا بینچ مارک کے او ایس پی آئی انڈیکس حالیہ ہفتوں کے دوران تاریخ کے شدید ترین اتار چڑھاؤ سے گزر رہا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے پیچھے بین الاقوامی اقتصادی اور مقامی عوامل کارفرما ہیں۔
جنوبی کوریا کا معاشی اور بینچ مارک کے او ایس پی آئی (KOSPI) انڈیکس حالیہ چند ہفتوں کے دوران تاریخ کے انتہائی غیر مستحکم دور سے گزر رہا ہے۔ اس انڈیکس میں ہونے والی شدید اتار چڑھاؤ کی لہر نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں کبھی تاریخی نوعیت کی گراوٹ تو کبھی ریکارڈ ساز تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے مالیاتی ماہرین کو بھی حیران کر کے رکھ دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے پیچھے کئی اندرونی اور بیرونی محرکات شامل ہیں جنہوں نے مجموعی تجارتی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس شدید اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر شرح سود میں ہونے والی تبدیلیاں، ٹیکنالوجی کے شعبے میں سست روی، اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کی معیشت بڑی حد تک برآمدات پر انحصار کرتی ہے، بالخصوص سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرونکس کی مصنوعات پر۔ عالمی منڈی میں ان اشیا کی مانگ میں اتار چڑھاؤ براہ راست کے او ایس پی آئی انڈیکس کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کے مقابلے میں کوریائی وون کی قدر میں کمی نے بھی مارکیٹ کی غیر یقینی کو مزید بڑھایا ہے۔ مقامی سطح پر بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا ہے کیونکہ کارپوریٹ پرافٹ کی توقعات توقع سے کم رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر معیشت کو سہارا دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن عالمی اقتصادی دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ مقامی سطح پر کی جانے والی کوششیں فوری طور پر مکمل ثمرآور ثابت نہیں ہو پا رہیں۔ مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی معیشت میں استحکام نہیں آتا اور افراط زر کے دباؤ میں کمی واقع نہیں ہوتی، جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں اس قسم کے ہنگامہ خیز رجحانات جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کو اس دوران محتاط حکمت عملین اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔