World
اقوام متحدہ اور افریقی یونین کا افریقا میں امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے زور دیا ہے کہ افریقا میں پھیلتی ہوئی بدامنی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور افریقی یونین کو باہمی شراکت داری مزید مضبوط بنانی چاہیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو محض بحرانوں پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے پر کام کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران مقررین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افریقی برصغیر کے مختلف حصوں میں عدم استحکام اور سکیورٹی کے خطرات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین (اے یو) کے درمیان شراکت داری کو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر زیادہ فعال بنایا جائے تاکہ بحرانوں کے پھوٹ پڑنے کے بعد محض ردعمل دینے کے بجائے ان کی بروقت روک تھام ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے دوران پاکستان اور چین سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور افریقی خطے میں پائیدار امن و ترقی کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ افریقا کو اس وقت دہشت گردی، اندرونی تنازعات اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ اجلاس کے دوران مقررین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ افریقی یونین کی زیرقیادت چلنے والے امن مشنز کو مالیاتی اور سکیورٹی تعاون فراہم کرنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک نے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت افریقی یونین کے امن مشنز کی باقاعدہ فنانسنگ کا بندوبست کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی قیادت میں تنازعات کو کامیابی سے حل کیا جا سکے۔ چین اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افریقا کے امن، استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر ماہرین کا کہنا تھا کہ افریقا کے مسائل کا پائیدار حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب بین الاقوامی ادارے افریقی ممالک کے ساتھ مل کر غربت کے خاتمے، گورننس کی بہتری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے طویل المدتی حکمت عملی تیار کریں۔ سلامتی کونسل کے اراکین نے اتفاق کیا کہ افریقا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ خطے کے کروڑوں عوام کو ایک محفوظ اور پرامن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔