LIVE
Loading Breaking News...

امریکی 30 سالہ بانڈ یلڈ 24 سال کی بلند ترین سطح پر

News Image
امریکی مالیاتی منڈی میں طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں 30 سالہ بانڈ یلڈ چوبیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اہم بانڈ سیلز اور مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب امریکی تیس سالہ بانڈ یلڈ چوبیس سال کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ اس پیشرفت کے ساتھ ہی دس سالہ ٹریژری نوٹ کی یلڈ بھی سال 2002 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مارکیٹ کے شرکاء اور تاجر آئندہ آنے والی اہم بانڈ سیلز کے لیے تیاری کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال کا اثر مجموعی طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں اور حصص بازار پر بھی پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ اور تجارتی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا موجودہ حالات میں طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کرنا دانشمندی ہوگی یا نہیں۔ طویل عرصے سے بانڈ مارکیٹ کے بارے میں محتاط رہنے والے ماہرین اب اس شعبے میں نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یلڈز کی یہ بلند ترین سطح طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کر سکتی ہے جبکہ دیگر تجزیہ کار تاحال احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ گلوبل مارکیٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ بانڈز کی اس کارکردگی کا براہ راست تعلق وفاقی اداروں کی مانیٹری پالیسیوں اور افراط زر کے تخمینوں سے ہے۔ جب تک شرح سود اور اقتصادی اشاریوں سے متعلق واضح اشارے سامنے نہیں آتے، بانڈ مارکیٹ میں غیر یقینی کی یہ فضا برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار اب تمام تر توجہ آئندہ مالیاتی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے فیصلوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے رخ کا تعین کیا جا سکے اس تمام صورتحال کے دوران اسٹاک مارکیٹس میں بھی ملی جلی کیفیات دیکھی جا رہی ہیں جہاں بانڈ مارکیٹ کے دباؤ کے باوجود حصص بازار میں تیزی کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔ معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنے والے دنوں میں بانڈ مارکیٹ کی یہ بلند ترین یلڈز امریکی معیشت کی سمت اور عالمی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔