World
گوانتانامو جیل کی تاریخ اور اس کے اب تک کھلے رہنے کی وجوہات
افغانستان پر امریکی حملے کے بعد قائم کی جانے والی گوانتانامو بے کی متنازع جیل پچیس سال گزرنے کے باوجود اب تک فعال ہے۔ جنگ کے خاتمے کے باوجود اس حراستی مرکز کا کھلا رہنا عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حلقوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
امریکہ کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد قائم کی جانے والی گوانتانامو بے کی بدنام زمانہ جیل اپنے قیام کے پچیس سال بعد بھی فعال ہے۔ اگرچہ اس طویل جنگ کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور امریکی افواج بھی افغانستان سے نکل چکی ہیں، لیکن کیوبا میں واقع یہ فوجی حراستی مرکز اب تک بند نہیں کیا جا سکا۔ اس جیل کا مقصد ابتدائی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پکڑے جانے والے مبینہ جنگجوؤں کو رکھنا تھا، جہاں انہیں طویل عرصے تک بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے رکھا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوانتانامو بے جیل میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مبینہ تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی رپورٹس نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس جیل کو بند کرنے کے لیے کئی بار مطالبات کیے اور اسے قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سابق امریکی صدور کے دور حکومت میں بھی اس جیل کو بند کرنے کے اعادے کیے گئے تھے، لیکن سیاسی، قانونی اور سکیورٹی سے جڑے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکا۔
اب پچیس سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود اس جیل میں کچھ ایسے قیدی اب بھی موجود ہیں جن پر نہ تو باضابطہ مقدمات چلائے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں رہا کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے کا اب تک کھلا رہنا عالمی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کچھ قیدیوں کی رہائی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ متنازع جیل آج بھی دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔