LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ٹرمپ کی اشتہاری مہم کیخلاف ڈیموکریٹس کا مقدمہ

News Image
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والی ایک متنازع اشتہاری مہم کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور پروپیگنڈے سے متعلق قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
واشنگٹن: امریکی سیاست میں اس وقت ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک اہم مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ اس متنازع اشتہاری مہم کے خلاف دائر کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے چلائی جا رہی ہے۔ اس اقدام نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر پہلے ہی دو طرفہ یعنی بائی پارٹیسن تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی ناقدین اور مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہاری مہم سرکاری فنڈز کے ضیاع کے مترادف ہے اور یہ ان قانونی prohibitions یعنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتی ہے جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی پروپیگنڈے یا ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنے سے روکتی ہیں۔ ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس مقدمے سے انتظامیہ کی پالیسیوں اور سرکاری وسائل کے استعمال پر مزید عدلیہ کی نظر پڑ سکتی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بابت باضابطہ اور تفصیلی دفاعی مؤقف سامنے آنا باقی ہے، تاہم اس قانونی چارہ جوئی نے وفاقی فنڈز کے استعمال کے ضابطوں پر ایک بار پھر ملک گیر بحث چھوٹی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی جنگ کے امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔