World
یمنی افواج کی حوثیوں کیخلاف کارروائیاں، 1860 افراد کے مارے جانے کا دعویٰ
یمنی حکومت کی فورسز نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران حوثیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے دو ہزار سے زائد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
یمنی سرکاری افواج نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور جھڑپوں کے دوران کم از کم 1860 حوثی جنگجوؤں کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کے مختلف حساس علاقوں میں عمل میں لائی گئیں جہاں باغیوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے بھرپور حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔ یمنی حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک طویل عرصے سے شدید سیاسی اور عسکری بحران کا شکار ہے۔
فورسز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس دوران کل 2,103 درست اور ٹارگٹڈ آپریشنز انجام دیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد حوثی ملیشیا کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں جدید حکمت عملی اور انٹیلی جنس معلومات کا بھرپور استعمال کیا گیا تاکہ عام شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور صرف جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جائے۔
یمن میں جاری یہ تنازعہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سرکاری افواج کی اس تازہ پیشرفت کے بعد ملک کے مختلف محاذوں پر کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب، حوثی گروپ کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم زمینی صورتحال تاحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان جھڑپیں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری ہے۔