World
سعودی عرب کے دو اہم ایئرپورٹس پر حملے، تین ہلاک
یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں تین غیر ملکی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر چھتیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سعودی حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ملک کے دو اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حملے دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ان دونوں ٹرانسپورٹ ہبز پر فائرنگ اور حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے، جس سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ منگل اور بدھ کے دوران ابھا اور شاہ خالد ایئرپورٹس کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، تاہم بیان میں براہ راست کسی کا نام نہیں لیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق ابھا ایئرپورٹ پر ایک مصری اور ایک الجزائری شہری جاں بحق ہوا جبکہ ریاض کے ہوائی اڈے پر سوڈان کا ایک شہری ہلاک ہوا۔ ان حملوں کے دوران کل چھتیس افراد زخمی بھی ہوئے جن میں پانچ سعودی شہری، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فوج نے بتایا کہ انہوں نے ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائل کے لانچنگ پلیٹ فارم کو تباہ کر دیا ہے۔ حوثی باغی، جو ملک کے شمال مغرب کے بیشتر حصے پر قابض ہیں، یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ یمن میں جولائی میں خانہ جنگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، ییمنی حکومت نے ایک بڑے جوابی حملے کا اعلان کیا ہے جبکہ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے کا دفاع جاری رکھیں گے۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران عام شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے سنگین انسانی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔