LIVE
Loading Breaking News...

সোমালিয়ায় اغوا شدہ بحری جہاز کے پاکستانی ملاح کراچی پہنچ گئے

News Image
সোমালিয়ার ساحل پر اپریل میں اغوا ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی ملاح کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ان ملاحوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا گیا اور ریاستی سطح پر ان کے اہل خانہ کی مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔
صومالیہ کے ساحل کے قریب اپریل میں اغوا کیے جانے والے آئل ٹینکر 'ایم ٹی آنر 25' کے باقی تین پاکستانی ملاح بدھ کے روز ایتھوپیا ایئر لائنز کی پرواز کے ذریعے بحفاظت کراچی پہنچ گئے۔ ان ملاحوں کی آمد پر جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انصار برنی ٹرسٹ کی وائس چیئرپرسن شاہین برنی کے مطابق یہ تینوں ملاح ایڈس ابابا سے کراچی پہنچے ہیں جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات نے ان کا خیرمقدم کیا۔ کراچی کے ایئرپورٹ پر پہنچنے والے ملاحوں کا استقبال کرنے والوں میں گورنر سندھ اور میئر کراچی سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ گورنر سندھ نے وطن واپس پہنچنے والے ملاحوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر انہوں نے ملاحوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا اور کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات پوری قوم کا مشترکہ درد ہیں۔ ملاحوں کی واپسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے کا خصوصی نوٹس لیا تھا اور تمام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست متاثرہ خاندانوں کی مکمل کفالت کرے گی اور بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے پہلے ہی متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے لیے رہائشی پلاٹوں، تعلیم اور علاج کے حوالے سے واضح احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ یاد رہے کہ ستمبر کے آخر میں صومالیہ کے نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے پالاؤ کے پرچم والے اس آئل ٹینکر کو بازیاب کرایا تھا جس میں عملے کے 19 ارکان سوار تھے جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ دفتر خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ ان 10 میں سے تین پاکستانی ملاح بازیاتی آپریشن کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ زخمی ہونے والے چار دیگر ملاح اپنے تین ساتھیوں کی میتوں کے ہمراہ پہلے ہی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں تصدیق کی تھی کہ باقی ماندہ تینوں ملاح جن میں عمران علی، حسین یوسف اور محمد یاسین شامل ہیں، کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور اپنے اہل خانہ سے مل رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر قزاقی کے خلاف اقدامات اٹھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔