LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے وزیر اعلیٰ کی گورنر فیصل کریم کنڈی پر شدید تنقید

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے صوبائی امور میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی مداخلت کو غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے صوبے کے مالیاتی حقوق اور بقاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
پشاور میں خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ساتھ ہونے والے اجلاس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو تہائی اکثریت کی حامل صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے گورنر کی جانب سے اس طرح کے اجلاس بلانا جمہوریت اور آئین پر براہ راست حملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں اور اس قسم کی ہٹ دھرمی کا مقصد صرف صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ پرامن رہیں اور قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر حالات کا مقابلہ کریں۔چیف سیکرٹری اور آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں کیونکہ اس سے صوبے اور ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر بھی شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ ماضی میں ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی اور اب بھی صوبے کے حقوق سلب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد سے ان کے مالی حقوق تاحال ادا نہیں کیے گئے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی عوام اور پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے نے اسی ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کی پالیسیاں صوبے کے مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ بڑھائے اور اربوں روپے کے بقاجات کی ادائیگی کو یقینی بنائے تاکہ صوبائی سطح پر ترقیاتی کاموں اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دوسری طرف گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر امن و امان کے حوالے سے اجلاس بلانا ان کی آئینی ذمہ داری تھی اور پی ٹی آئی کو صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔