Pakistan
سپریم کورٹ کا فیصلہ: شقاق کی بنیاد پر نکاح کا خاتمہ
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ازدواجی ناچاقی یعنی شقاق کی بنیاد پر خواتین کے نکاح کو تحلیل کیا جا سکتا ہے خواہ اس دوران شوہر کی جانب سے ظلم یا تشدد ثابت نہ بھی ہو۔ عدالت عظمیٰ نے خلع کی جبری تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے خواتین کو حق مہر کی ادائیگی سے متعلق قانونی طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ازدواجی ناچاقی یعنی 'شقاق' کی بنیاد پر کسی بھی عورت کا نکاح تحلیل کیا جا سکتا ہے، چاہے عدالت میں شوہر کی طرف سے ظلم یا تشدد کے الزامات باقاعدہ طور پر ثابت نہ بھی ہو سکیں۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم اس بنچ میں جسٹس نعیم اختر افغان, جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ, جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔ یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر کردہ دو اپیلوں پر جاری کیا گیا جن میں خواتین نے ازدواجی تعلق کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ فیملی عدالتوں نے اس سے قبل ان مقدمات میں ظلم ثابت نہ ہونے پر نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا تھا اور خواتین کو حق مہر واپس کرنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد میں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے پندرہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں خلع اور شقاق کے مابین واضح قانونی فرق بیان کیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق خلع بیوی کی اپنی رضاکارانہ خواہش پر منحصر ہوتا ہے جس کے عام طور پر مالی نتائج اور حق مہر کی واپسی لازم آتی ہے، جبکہ اس کے برعکس 'شقاق' ایک ایسی سنگین ازدواجی خرابی اور ٹوٹ پھوٹ کا نام ہے جو فریقین کے مابین تعلقات کے مستقل خاتمے کو ظاہر کرتی ہے اور یہ سورہ النساء کی آیت نمبر 35 کی روشنی میں تحلیلِ نکاح کے قانون کی دفعہ 2(ix) کے تحت آتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیملی عدالتوں کی جانب سے ظلم کے مقدمات کو بغیر کسی واضح اور رضاکارانہ رضامندی کے یکطرفہ طور پر خلع میں تبدیل کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا، کیونکہ اس طرح خواتین کو ان کے حق مہر سے جبراً محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کا کام انسانی تنازعات کو مزید بڑھانا نہیں بلکہ قانون کے مطابق ان کے حقوق کا درست تعین کرنا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ جہاں صلح کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں اور ازدواجی رشتہ اپنے بنیادی مقاصد کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو جائے، وہاں فریقین کو غیر معینہ مدت تک ایک دوسرے کے ساتھ بند رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ بغیر کسی مضبوط ثبوت کے شوہر پر ظلم یا بدسلوکی کا لیبل لگانا بھی درست نہیں، تاہم اگر تعلقات میں گہری اور ناقابلِ تلافی دراڑ آ چکی ہو تو شقاق کی بنیاد پر نکاح ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب خواتین کے لیے حق مہر کی واپسی یا اس کا استثناء ڈسولیوشن آف مسلم میرجز ایکٹ 1939 کے تحت طے کیا جائے گا۔