LIVE
Loading Breaking News...

راہول گاندھی اور اپوزیشن ارکان نئی دہلی میں پولیس کی حراست میں

News Image
بھارتی پولیس نے ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور دیگر قانون سازوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ احتجاج وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سیاسی طور پر ایک نیا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں بھارتی اپوزیشن کے سرکردہ رہنما راہول گاندھی اور متعدد قانون سازوں کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے پر پولیس نے مسلسل دوسرے روز بھی حراست میں لے لیا۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی اور انتخابی پینل کے اندرونی اختلافات کی خبر سامنے آنے کے بعد شروع کیا گیا ہے، جس سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور دیگر سیاسی کارکنان مسلسل اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ بدھ کے روز یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب کانگریس کی جانب سے وسطی دہلی کے ایک ریستوران میں قانون سازوں کا دوپہر کا کھانا رکھا گیا تھا، جو اس مقام کے قریب تھا جہاں حکومت نے مظاہروں کی اجازت دے رکھی ہے۔ بس میں سوار ہونے سے پہلے راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس نے انہیں پرامن احتجاج کرنے سے روکا ہے، لیکن وہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں دھاندلی کرنے والے ملک کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور گیانیش کمار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ بس میں سوار اپوزیشن اراکین نے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 'کوئی ووٹ چوری نہیں، کوئی جمہوریت چوری نہیں' اور 'الیکشن کمیشن، بی جے پی کمیشن نہیں' جیسے نعرے درج تھے۔ اس دوران سینکڑوں کانگریس کارکنان بھی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کے درمیان پیدل مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے جنتر منتر کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا اور بعد میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یاد رہے کہ حالیہ احتجاجات وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کسی بھی قسم کی غلطی سے انکار کیا ہے، لیکن اپوزیشن کا یہ مؤقف ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کی قیادت کو تبدیل کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔