Pakistan
حیدرآباد میں پولیس انسپکٹر کی فائرنگ، تین افراد زخمی اور گرفتار
حیدرآباد کے علاقے پریتا آباد میں پولیس انسپکٹر کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم انسپکٹر اور اس کے دو گن مینوں کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حیدرآباد کے علاقے پریتا آباد میں سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول (ایس ایچ پی پی) کے ایک انسپکٹر کو مبینہ طور پر جھگڑے کے دوران فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک شخص کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم انسپکٹر اور اس کے دو گن مینوں کو فوری طور پر حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واقعے کا مقدمہ پینیاری پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق، یہ ناخوشگوار واقعہ ایک معمولی تنازعے پر پیش آیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق انسپکٹر نے ان کے بھتیجے کی موٹر سائیکل کو مبینہ طور پر لات مار کر گرا دیا تھا جس پر گھر کے افراد باہر آئے۔ اس دوران تلخ کلامی بڑھی اور پولیس افسر نے مبینہ طور پر گالی گلوچ کرتے ہوئے خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی کوشش کی۔ جب زخمی شخص ارشاد کے والد اور دیگر افراد نے بیچ بچاؤ کرانا چاہا تو حالات مزید کشیدہ ہو گئے، اور مشتعل ہو کر انسپکٹر نے اپنی سرکاری گاڑی سے پسٹل نکال کر فائرنگ شروع کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ارشاد نامی شہری اور دو راہگیر، جن کی شناخت آفاق اسحاق اور کامران بابو کے طور پر ہوئی ہے، گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے۔ لیاقت یونیورسٹی اسپتال (ایل یو ایچ) کے ڈاکٹروں کے مطابق ارشاد کی حالت تشویشناک ہے جن کا آپریشن کرنے کے بعد انہیں انتہائی نگداشت وارڈ (آئی سی یو) میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ دیگر زخمیوں کو بھی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جن میں سے ایک کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
حیدرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) شاہ زیب چاچڑ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم انسپکٹر جو کہ اضلاع جامشورو میں تعینات تھا، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایف آئی آر میں نامزد اس کے دو گن مینوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔