LIVE
Loading Breaking News...

بلدیہ فیکٹری سانحہ: سپریم کورٹ کا ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بریت کیخلاف فیصلہ

News Image
سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی نظرثانی اپیل مسترد کردی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فوجداری نظامِ انصاف میں شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں نہیں دی جاسکتیں۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سندھ حکومت کی وہ نظرثانی اپیل مسترد کردی جس میں 2012 کے ہولناک بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے میں علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری کو جلادیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 16 نامعلوم افراد سمیت 260 سے زائد مزدور زندہ جل گئے تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ تھا جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا تھا۔ رواں سال جون میں عدالت عظمیٰ نے عبد الرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو قتل، بھتہ خوری، جلاؤ گھیراؤ اور دہشت گردی کے الزامات سے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا۔ ان مجرموں نے سندھ ہائیکورٹ کے 2023 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کی طرف سے دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ بدھ کے روز جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے۔ سندھ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سلیم اختر نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔ عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی اپیل کو خارج کرنے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم سے متعلق فیصلے کے ریمارکس کو حذف کرنے کے لیے دائر کی گئی ایک اور علیحدہ درخواست بھی مسترد کردی۔ سندھ حکومت نے جولائی میں دائر اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جون کا فیصلہ حقائق، حالات اور ضابطہ فوجداری کی سنگین غلطیوں پر مبنی تھا اور عدالت نے اہم گواہوں اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کو نظر انداز کیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے المناک اور دل دہلا دینے والے واقعات میں سے ایک قرار دیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے کیس کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرے اور کسی بھی بے گناہ شخص کو محض مفروضوں یا کمزور شواہد کی بنیاد پر سزا نہ دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں تو محض استدلال یا عام نوعیت کے الزامات پر سزاؤں کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ حالانکہ استغاثہ کی جانب سے چار سو کے قریب گواہ پیش کیے گئے تھے، تاہم عدالت نے ان بیانات کو کمزور اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔