LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے ایم آفریدی کا گورنر کے مواخذے اور آپریشنز کی مخالفت کا اعلان

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے گورنر کے خلاف مواخذے کا قانون لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبے میں کسی بھی فوجی آپریشن کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے سینئر حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران ایک اہم اور سخت موقف اختیار کرتے ہوئے گورنر کو ہٹانے یا ان کے مواخذے کے لیے ایک نئے قانون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی حکومت اور وفاقی سطح پر موجود سیاسی قوتوں کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے گورنر کی جانب سے صوبے کے سینئر حکام کے ساتھ کیے جانے والے حالیہ اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور قانونی رائے طلب کی ہے۔ دوسری جانب، وزیر اعلیٰ نے صوبے میں کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز کی سختی سے مخالفت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ عوامیمینڈیٹ کی حامل حکومت اس طرح کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر حریف سیاسی جماعتوں کے ساتھ جاری محاذ آرائی نے صوبے کے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس سے قبل اٹک کے مقام پر پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے کو مبینہ طور پر روکے جانے کے بعد معاملات مزید خراب ہوئے، جس پر حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی اس کشیدگی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، کیونکہ مذاکراتی عمل میں شامل بعض رہنماؤں کے واک آؤٹ کرنے سے بات چیت کا عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ گورنر کے اختیارات اور ان کے متنازع اقدامات کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ مستقبل میں انتظامی امور میں مبینہ مداخلت کو روکا جا سکے اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔