World
پاکستان کا اقوام متحدہ میں موسمیاتی فنانسنگ اور واٹر ٹریٹمنٹس پر زور
پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موسمیاتی فنانسنگ کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے اور پانی کے عالمی معاہدوں کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کریں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے فنانسنگ کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اسلام آباد کے نمائندگان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پانی کے عالمی معاہدوں کی مکمل پاسداری کرے تاکہ سرحدی اور علاقائی سطح پر آبی مسائل کو باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک کو شدید نوعیت کے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب، آنے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس یعنی COP31 کو اس بات کا ایک بہترین موقع قرار دیا جا رہا ہے کہ توانائی کی منتقلی کے منصوبوں کو عملی شکل دی جائے اور انہیں قابلِ سرمایہ کاری پراجیکٹس میں تبدیل کیا جائے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کانفرنس سے پہلے موسمیاتی فنانسنگ کے آخری مرحلے کے مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ فنڈز کی بروقت اور شفاف فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک کو ہمیشہ سے فنڈز کی دستیابی میں تاخیر اور تکنیکی معاونت کی کمی کا سامنا رہا ہے جسے دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو درکار فنانسنگ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وقت پر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا بھر میں ماحولیاتی تباہی کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر اس موقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے کہ موسمیاتی انصاف کے بغیر پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
عالمی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات اور تجاویز کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام ممالک خصوصاً وہ جو موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار تو کم ہیں لیکن ان سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید عملی اقدامات سامنے آئیں گے جو دنیا کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔