World
قطر کے قریب تجارتی ٹینکر پر حملہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی
قطر کے شمالی ساحل کے قریب ایک تجارتی تیل بردار ٹینکر کو متعدد پراجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز کے ادارے (یو کے ایم ٹی او) نے اس حملے کی تصدیق کی ہے جبکہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
برطانوی بحری تجارتی آپریشنز کے ادارے (یو کے ایم ٹی او) نے تصدیق کی ہے کہ قطر کے شمالی ساحل کے قریب ایک تجارتی ٹینکر کو متعدد پراجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں بحری جہاز رانی بالخصوص آب تابی ہرمز اور اس کے اطراف کی سمندری حدود میں سکیورٹی کے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا ہے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب عینی شاہدین اور متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سمندری راستوں پر ہونے والے حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ سپلائی کے راستے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل عمان کے قریب بھی ایک تجارتی جہاز کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن میں عملے کے ارکان کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ بین الاقوامی مبصرین نے خلیجی ممالک کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جہاز رانی کے ان اہم راستوں پر حملے نہ روکے گئے تو عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ متعلقہ بحری ادارے متاثرہ جہازوں اور ان کے عملے کی امداد کے لیے سرگرم عمل ہیں اور سکیورٹی فورسز نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔